ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ڈبلیو ایچ او کاسخت انتباہ- ہندوستان میں پھٹ سکتاہے ”کورونا بم“!

ڈبلیو ایچ او کاسخت انتباہ- ہندوستان میں پھٹ سکتاہے ”کورونا بم“!

Sun, 07 Jun 2020 11:47:02    S.O. News Service

نئی دہلی،7؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی)عالمی ادارہ صحت کے ایک ماہر نے ہندوستان کو متنبہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں زیادہ نرمی یااس کو ہٹانے سے ہندوستان میں کورونا وائرس بہت زیادہ پھیل جائے گا،جس کی وجہ سے ہندوستان میں کورونا ”بم“ بن کرپھٹ سکتاہے،جس کے نقصان کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ہندوستان میں کورونا وائرس کی وبا سے متعلق صورتحال ابھی تک دھماکہ خیز نہیں ہے،لیکن لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار زیادہ نرمی کے سبب جس رفتار سے کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہورہاہے وہ بہت اچھی علامت نہیں ہے-کیوں کہ متاثرین کے معاملے میں ہندوستان اٹلی کو پیچھے چھوڑ کر دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر آگیا ہے -

ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ ڈیزاسٹر پروگرام کے ایگزی کیٹیو ڈائرکٹر ڈاکٹر مائیکل جے ریان نے کووڈ -19 پر ہونے والی یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جب وبا پھیلتے ہوئے معاشروں میں داخل ہوجاتی ہے تو یہ کسی بھی وقت انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے، جیسا کہ بہت سی جگہوں پر دیکھا گیا- انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ابھی اس وبا کے کیسوں میں کوئی انتہائی دوگنا اضافہ نہیں ہوا ہے، لیکن اس کے ہونے کا خطرہ برقرارہے اور اس لئے پوری احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں 3 ہفتوں میں کیس دوگنا ہو رہے ہیں اور اس طرح اس میں انتہائی اضافہ نہیں ہو رہا ہے، بلکہ کیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے- ہندوستان، بنگلہ دیش، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے دوسرے گنجان آبادی والے ممالک میں وبائی صورتحال اب بھی دھماکہ خیز نہیں ہے،لیکن اس کے ہونے کا خطرہ برقرار ہے -

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر معاشرتی سطح پرکورونا انفیکشن شروع ہوجائے گا تو یہ بہت تیزی سے پھیلے گا-ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات ملک میں بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں کارگر ثابت ہوئے ہیں اب جبکہ پابندیوں میں نرمی دی جارہی ہے اور لوگوں کی نقل و حرکت ایک بار پھر شروع ہوگئی ہے تو سنگین خطرہ ہے -

ڈبلیو ایچ او کے چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن نے کہا کہ ہندوستان میں 2 لاکھ سے زیادہ کیس ہیں - اگرچہ یہ تعداد بڑی معلوم ہوتی ہے، لیکن130؍کروڑ کی آبادی والے ملک کے لحاظ سے، یہ اب بھی زیادہ نہیں ہے - متاثرین میں اضافے اور کیسوں کی دوگنی رفتار پر نظر رکھیں - اس سے یہ یقینی بنا ناہو گا کہ صورتحال خراب نہ ہو-لاک ڈاؤن اور پابندیوں میں نرمی کے ساتھ، یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کئے جائیں - اگر لوگوں کے طور طریقوں میں بڑی تبدیلی لانی ہے تو پھر انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ انہیں ایسا کیوں کرنا چاہئے -

ڈاکٹر سوامی ناتھن نے کہا کہ ملک کے کئی شہری علاقوں میں سوشیل ڈسٹینسنگ پرعمل نہیں ہوسکتا-اس لئے یہ ضروری ہے کہ لوگ اپنے چہرے کو ڈھانک کرباہرنکلیں - جہاں دفاترمیں، پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران اور تعلیمی اداروں میں سوشیل ڈسٹینسنگ پر عمل نہیں ہوسکتا ہے،وہاں بھی چہرہ ڈھکنا ضروری ہے - ہر ادارہ،آرگنائزیشن اور صنعت کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کام شروع کرنے سے پہلے انہیں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے - ممکن ہے کہ کورونا سے پہلے کے حالات کبھی واپس نہ آئے -


Share: